Baghsar Fort Hiking Trek
Baghsar Fort
Baghsar Fort Samahni Valley
Baghsar Fort Azad Kashmir
قلعہ باغسر ہائیکنگ ٹریک
وادی سماہنی، بھمبر، آزاد کشمیر، پاکستان
باغسر قلعہ، مغل دور کا ایک قدیم قلعہ ہے۔
جو آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے ضلع بھمبر کی وادی سماہنی میں، لائن آف کنٹرول (LOC) کے قریب ایک پہاڑی سلسلے پر واقع ہے۔
وادی سماہنی تاریخی اعتبار سے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔
تاریخ کے ساتھ ساتھ وادی باغسر جھیلوں، سرسبز پہاڑوں، چیڑ کے جنگلات اور قدرتی چشموں کے لیے جانی جاتی ہے۔
وادی سماہنی تاریخی اعتبار سے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ اس راستے پر واقع ہے جسے مغل بادشاہ کشمیر جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
وادی سماہنی کے حسین پہاڑوں کے اوپر گرینائٹ پتھر سے بنا چار منزلہ قلعہ باغسر واقع ہے،
جو مغل دور کی انجینئرنگ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
یہ سطح سمندر سے 975میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
تاریخ کے مطابق، مشہور مغل شہنشاہ جہانگیر جب کشمیر سے واپس آ رہے تھے، تو وہ اس علاقے میں بیمار ہوئے اور اسی قلعے کے پاس ان کا انتقال ہوا۔
ان کی موت کے بعد ان کے اندرونی اعضاء کو اسی علاقے کے قریب دفن کیا گیا تھا، جبکہ باقی جسدِ خاکی کو لاہور لے جایا گیا۔
چونکہ اس وقت مغل دربار میں تخت نشینی کی جنگ چھڑنے کا خطرہ تھا اور شاہی قافلے کو لاہور پہنچنے میں کئی دن لگنے تھے، اس لیے ملکہ نور جہاں نے حکمتِ عملی کے تحت بادشاہ کی موت کی خبر کو چھپائے رکھا۔
لاش کو سڑنے اور خراب ہونے سے بچانے کے لیے حکیموں نے شہنشاہ کے جسم سے اعضاء اور انتڑیاں نکال لی انتڑیاں دفن کرنے کے بعد، بادشاہ کے جسدِ خاکی میں خوشبوئیں اور مصالحے بھر کر اسے ہودج (عماری) میں اس طرح سیدھا بٹھایا گیا جیسے وہ زندہ ہوں، تاکہ فوج اور رعایا میں بغاوت نہ پھوٹے۔
اس طرح یہ قافلہ بھمبر سے ہوتا ہوا لاہور پہنچا،
جہاں راوی کے کنارے شاہدرہ باغ میں انہیں مستقل طور پر دفن کیا گیا اور ان کا اصل مقبرہ تعمیر ہوا۔
Location: Samahni Valley, Bhimber District, Azad Kashmir (close to the Line of Control).
History: It traces its origins to the 15th century (associated with chieftain Jasrat) and was later reconstructed and expanded under Chibh rule and Mughal architects. The traveler Godfrey Vigne documented the site in his travels.
Historical Significance: The entrails of Mughal Emperor Jahangir were reportedly buried here after he died while traveling from Kashmir to Lahore.
Capacity & Defense: Historically built as a defense post, it could house roughly 500 soldiers, 100 horses, and 50 elephants.
Layout & Architecture:
• Outer Perimeter: Features a strong boundary wall with 38 guard rooms, light ports and wall loopholes.
• Interior: Features a central water pond, a darbar hall, 43 spacious rooms, observation and firing towers, and archer indentations.
• Material: Constructed primarily of dressed granite and sandstone.
مکمل تفصیل Video Link کی مدد سے حاصل کر سکتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment