Created for Updated School Education Department Info. & Financial Matters
Notifications, Proformas, Letters & Applications
To Help HONORABLE EDUCATORS
Guidelines & How to Maintain Service Book up to a Specific Service Tenure, Entries of Pay Fixation, Joining, Reliving, Transfer, Promotion, Up Gradation, Pay Scale Revised, Annual Increments
Pay Charts, Pay Change Forms, Start of Pay, Fixation, Regularization, Promotion, Up-Gradation, Scale Revised & Arrears Bills
پنڈ دادنخان، جہلم روڈ پر واقع دھریالہ جالپ کے قریب غریبوال سیمنٹ فیکٹری موڑ روڈ سے ہوتے ہوئے باغاں والا گاؤں کی جانب جانے والے راستہ سے ہوتے ہوئے ایک راستہ قلعہ نندنہ کی جانب جاتا ہے۔
کوہستانِ نمک کے دامن میں واقع آخری گاؤںباغاں والا کی جانب جانے والے راستے سے گزرتے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر واقع قدیم قلعہ نندنا تک پہنچنے کے لیے تقریباً 2.5 کلومیٹر کی پختہ ہائیکنگ ٹریل موجود ہے۔
موجودہ پختہ ہائیکنگ ٹریک سے ہٹ کر گزشتہ ہائیکنگ ٹریک جو کہ اس سے نسبتا مشکل ہے لیکن اس ٹریک کے راستے میں جابجا بہتے چشموں کی مدھر آواز محو سفر ہو کر ٹریک کو مزید خوبصورت و دلکش بناتے ہیں۔
🔯 مسلم سائنسدان ابو ریحان البیرونی نے اسی قلعے میں قیام کیا۔
🔘 یہیں اس نے ایک رصد گاہ / تجربہ گاہ بنائی اور ایک چھڑی اور ٹرگنومیٹری کی مدد سےزمین کا قطر ناپا۔
🔘 اس کا ناپا ہوا قطر 3928.77 میل تھا جو آج کے جدید قطر سے صرف 2% یا تقریباً 43 فٹ مختلف ہے۔
🔘 اس نے اپنی مشہور کتاب *"کتاب الہند"* کا زیادہ حصہ یہیں بیٹھ کر لکھا۔
🔯مقام اور تعمیر:
🔘 دسویں صدی عیسوی میں تعمیر ہوا۔
🔘 ہندو شاہی کے راجہ جے پال نے یہ قلعہ بنوایا،
🔘 جبکہ اس کے اندر شیو جی کا مندراس کے بیٹے آنند پال نے بنوایا تھا۔
🔘 سنسکرت میں "نندنہ" کا مطلب "بیٹا" ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا نام اندر دیوتا کے دیو مالائی باغ کے نام پر رکھا گیا۔
🔯 تاریخی ادوار:
🔘 گیارہویں صدی تک ہندو شاہی راجے حکومت کرتے رہے۔
🔘 سلطان محمود غزنوی نے 1014ء میں حملہ کر کے اسے فتح کیا اور یہاں ساروغ کو کوتوال مقرر کیا۔
🔘 اسی مقام پر بھیم پال اور محمود کیفوجوں میں جنگ ہوئی۔
🔯 بعد کے ادوار:
🔘 13ویں صدی میں یہ قمر الدین کرمانی کے قبضے میں آیا،
🔘 پھر جلال الدین خوارزمی کے جرنیل،
🔘 پھر چنگیز خان کے افسر ترتی کے قبضے میں گیا۔
🔘 بعد میں التمش نے اسے فتح کیا۔
🔘 اکبر اور جہانگیر کے دور میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اور یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا۔
🔘 سکندر اعظمکی فوجوں نے بھی دریائے جہلم پار کرنے کے لیے یہی راستہ استعمال کیا تھا۔
🔯 حکومت پاکستان نے 2021 میں اسے Heritage Trail کا حصہ بنا کر بحال کرنے کے لیے 126 ملین کا پروجیکٹ شروع کیا تھا،
🔘 جس میں کٹاس راج، کھیوڑہ کی کانیں، ملوٹ قلعہ بھی شاملہیں۔
جو آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے ضلع بھمبر کی وادی سماہنی میں، لائن آف کنٹرول (LOC) کے قریب ایک پہاڑی سلسلے پر واقع ہے۔
وادی سماہنیتاریخی اعتبار سے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔
تاریخ کے ساتھ ساتھ وادی باغسر جھیلوں، سرسبز پہاڑوں، چیڑ کے جنگلات اور قدرتی چشموں کے لیے جانی جاتی ہے۔
وادی سماہنیتاریخی اعتبار سے نہایت اہم مقام رکھتی ہے۔کیونکہ یہ اس راستے پر واقع ہے جسے مغل بادشاہ کشمیر جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
وادی سماہنی کے حسین پہاڑوں کے اوپر گرینائٹ پتھر سے بنا چار منزلہ قلعہ باغسر واقع ہے،
جو مغل دور کی انجینئرنگ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
یہ سطح سمندر سے 975میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
تاریخ کے مطابق، مشہور مغل شہنشاہ جہانگیر جب کشمیر سے واپس آ رہے تھے، تو وہ اس علاقے میں بیمار ہوئے اور اسی قلعے کے پاس ان کا انتقال ہوا۔
ان کی موت کے بعد ان کے اندرونی اعضاء کو اسی علاقے کے قریب دفن کیا گیا تھا، جبکہ باقی جسدِ خاکی کو لاہور لے جایا گیا۔
چونکہ اس وقت مغل دربار میں تخت نشینی کی جنگ چھڑنے کا خطرہ تھا اور شاہی قافلے کو لاہور پہنچنے میں کئی دن لگنے تھے، اس لیے ملکہ نور جہاں نے حکمتِ عملی کے تحت بادشاہ کی موت کی خبر کو چھپائے رکھا۔
لاش کو سڑنے اور خراب ہونے سے بچانے کے لیے حکیموں نے شہنشاہ کے جسم سے اعضاء اور انتڑیاں نکال لی انتڑیاں دفن کرنے کے بعد، بادشاہ کے جسدِ خاکی میں خوشبوئیں اور مصالحے بھر کر اسے ہودج (عماری) میں اس طرح سیدھا بٹھایا گیا جیسے وہ زندہ ہوں، تاکہ فوج اور رعایا میں بغاوت نہ پھوٹے۔
اس طرح یہ قافلہ بھمبر سے ہوتا ہوا لاہور پہنچا،
جہاں راوی کے کنارے شاہدرہ باغ میں انہیں مستقل طور پر دفن کیا گیا اور ان کا اصل مقبرہ تعمیر ہوا۔
Location:Samahni Valley, Bhimber District, Azad Kashmir (close to the Line of Control).
History:It traces its origins to the 15th century (associated with chieftain Jasrat) and was later reconstructed and expanded under Chibh rule and Mughal architects. The traveler Godfrey Vignedocumented the site in his travels.
Historical Significance:The entrails of Mughal Emperor Jahangir were reportedly buried here after he died while traveling from Kashmir to Lahore.
Capacity & Defense:Historically built as a defense post, it could house roughly 500 soldiers, 100 horses, and 50 elephants.
Layout & Architecture:
• Outer Perimeter:Features a strong boundary wall with 38 guard rooms, light ports and wall loopholes.
• Interior:Features a central water pond, a darbar hall, 43 spacious rooms, observation and firing towers,and archer indentations.
• Material:Constructed primarily of dressed granite and sandstone.
مری سے ایبٹ آباد کو جاتے ہوئے خیرا گلیسے ایک راستہ دائیں ہاتھ نکلتا ہے۔
روڈ پر دائیں جانبایک چھوٹے سے بورڈسے بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
جو دو تین کلومیٹر کے بعدپائپ لائن ٹریککے نکتہ آغاز تک جاتا ہے۔
یہ ٹریکخیرا گلیسے شروع ہوتا ہے۔
جو گھنے جنگلات اور پہاڑی ڈھلوانوں سے ہوتا ہواایوبیہ کے علاقے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
ٹریک تقریباً 6 کلومیٹر لمبا ہے۔
اس ٹریک کو مکمل کرنے میں معمول کی رفتار سے تقریباً 2-3 گھنٹے لگتے ہیں۔
بلند پہاڑوں کے ساتھ ساتھ اک آسان راستہ والا ٹریک،
ٹریک کےایک طرف اونچے اور سرسبز پہاڑتودوسری طرف گہری وادیاں،آسمان کی بلندیوں کو چھوتے چیڑ،دیودار،اوک (بلوط) کے قدیم درخت، بہتے جھرنے و آبشاریں، پرندوں کی چہکاریں، صاف ستھری اور سکون بخشتی ٹھنڈی ہوا کے مُدھر جھونکے، انواع و اقسام کے رنگ برنگے پھول، خُوشنما و خُوبصورت رنگ برنگی تتلیاں، سرسبزو شادابی اور انسانی آمدورفت سے پاک راستہ ہے۔
اگر آپ فطرت سے محبت کرتے ہیں، آپ پہاڑوں کی پرسکون فضاؤں کے متلاشی ہیں اور ایک ایسا ٹریک تلاش کر رہے ہیں جو نہ صرف خوبصورت ہو بلکہ جسمانی طور پر بہت زیادہ تھکا دینے والا بھی نہ ہو، تو خیرا گلی سے ڈونگا گلی پائپ لائن ٹریک آپ کے لیے نہایت بہترین انتخاب ہے۔
گلیات کے خوبصورت پہاڑی سلسلے میں واقع یہ ٹریک سیاحوں اور ہائیکنگ کے شوقین افراد کے لیے ایک جنت سے کم نہیں۔
خیرا گلی سے ڈونگا گلی کی جانب سفر کرتے ہوئے آپ کو قدرت کے مختلف رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔
موسم گرما میں یہاں ہر طرف ہریالی اور رنگ برنگے جنگلی پھول ہوتے ہیں،
جبکہ موسم سرما میں برفباری کے بعد یہ پورا راستہ سفید چادر میں لپٹا ہوا کسی خوابناک منظر کی مانند نظر آتا ہے۔
گلیات کے دلکش پہاڑی سلسلے میں واقع ایوبیہ فارسٹ ٹریک ایک ایسا راستہ ہے جو نہ صرف اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ یہ ایک تاریخی اہمیت بھی رکھتا ہے۔
یہ ٹریک سیاحوں، ہائیکنگ کے شوقین افراد اور قدرت کے متلاشیوں کے لیے ایک مثالی مقام ہے۔
پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کے سفر کے دوران، بہت کم ایسے راستے ملتے ہیں جو تاریخ، انجینئرنگ اور قدرتی حسن کا ایسا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں جیسا کہ
ایوبیہ فارسٹ ٹریک یہ راستہ، جو خیرا گلی سے ایوبیہتکپھیلا ہوا ہے، جدید سیاحوں کے لیے ایک خفیہ خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔
پائپ لائن ٹریک کی تاریخ
ایوبیہ فارسٹ ٹریککا قیام محض سیاحت کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں۔
یہ راستہ دراصل اس دور کی ایک اہم آبی فراہمی کی لائن (پائپ لائن) کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا۔
جس کا مقصد مری اور نواحی علاقوں میں پانی کی ترسیل کو یقینی بنانا تھا۔
آج، یہی پائپ لائن کا راستہ ایک سرسبز و شاداب "نیچرل ٹریل" (Natural Trail) میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جو ہائیکنگ کے شوقین افراد کو ایک منفرد تاریخی تجربہ فراہم کرتا ہے۔
ٹریک کی نمایاں خصوصیات:
ایوبیہ فارسٹ ٹریک اپنی کئی وجوہات کی بنا پر منفرد ہے:
ٹھنڈی ہوا اور خاموشی:یہاں کی فضا میں ایک عجیب سی تازگی اور سکون ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور درختوں سے ٹکراتی ٹھنڈی ہوا آپ کی تھکن کو پلک جھپکتے میں دور کر دیتی ہے۔
قدرتی مناظر:ٹریک کے ایک طرف اونچے اور سرسبز پہاڑ ہیں اور دوسری طرف گہری وادیاں۔
راستے میں آپ کو چیڑ، دیودار اور اوک (بلوط) کے قدیم درخت دیکھنے کو ملیں گے۔
قدرتی تنوع:ٹریک کے دونوں اطراف دیودار، چیڑ اور بلوط کے قدیم درخت موجود ہیں۔
موسم کے لحاظ سے، یہ پورا راستہ کبھی گھنی دھند میں لپٹا ہوتا ہے تو کبھی دھوپ کی کرنیں درختوں کے درمیان سے چھن کر زمین پر ایک طلسماتی منظر پیش کرتی ہیں۔
جنگلی حیات اور نباتات:یہ راستہ دیودار، چیڑ اور بلوط کے قدیم درختوں سے ڈھکا ہوا ہے، جو اسے ایک ٹھنڈا اور پرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں۔
آسان راستہ:یہ ٹریک نسبتاً ہموار ہے، جس میں چڑھائی اور اترائی بہت کم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بچے، بوڑھے اور فیملیز اسے آسانی سے طے کر سکتے ہیں۔
آسان رسائی:اس ٹریک کی خاص بات یہ ہے کہ یہ زیادہ مشکل یا انتہائی بلندی والا راستہ نہیں ہے، اس لیے یہ عام سیاحوں اور فیمیلیز کے لیے بھی موزوں ہے۔
مشکل کی سطح:یہ ٹریکاپنی ہموار ساخت کی بدولت"آسان سے درمیانی" (Easy to Moderate) زمرے میں آتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ڈھلوانوں اور چڑھائیوں کا تناسب بہت متوازن ہے، جو اسے تجربہ کار ہائیکرز کے ساتھ ساتھ فیملیز کے لیے بھی ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔
مسافت:خیرا گلی سے شروع ہونے والا یہ ٹریکایوبیہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے، جس کی کل لمبائی 6 کلومیٹر ہے۔
اختتامیہ:خیرا گلی سے ایوبیہ تک کا یہ فارسٹ ٹریک6 کلومیٹر طویل سفر محض ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ خودشناسی اور قدرت کے قریب ہونے کا ایک نام ہے۔
یہ راستہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین تجربہ ہے جو پرہجوم مقامات سے دور، فطرت کے سکوت میں کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔
خیرا گلی سے ایوبیہ تک کا یہ فارسٹ ٹریکصرف ایک راستے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا سفر ہے جو آپ کو برطانوی دور کے انجینئرنگ کے شاہکاروں اور فطرت کے حسین امتزاج سے متعارف کرواتا ہے۔
اگر آپ گلیات جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اس تاریخی راستے پر ہائیکنگ آپ کے سفر کو یادگار بنا سکتی ہے۔
نوعیت:پائپ لائن ٹریک قدرت اور تاریخ کا ایک حسین امتزاج ہے، جو برطانوی دورمیں بچھائی گئی پانی کی پائپ لائن کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے۔
آغاز:یہ ٹریک خیرا گلی سے شروع ہوتا ہے۔
اختتام:ڈونگا گلی تک جاتا ہے۔
بلندی میں اضافہ:تقریباً 85 سے 110 میٹر (تقریباً 279 سے 364 فٹ) کے درمیان ہوتا ہے۔ اس قدرتی ٹریک کی زیادہ سے زیادہ بلندی تقریباً 7,700 سے 8,200 فٹ تک جاتی ہے۔
مسافت:اس ٹریک کی لمبائی تقریباً 6 کلومیٹر ہے۔
وقت:اس ٹریک کو مکمل کرنے میں معمول کی رفتار سے تقریباً 2-3 گھنٹے لگتے ہیں۔
مشکل کی سطح:یہ ٹریک نسبتاً ہموار ہے جس میں چڑھائی اور اترائی بہت کم ہے، اس لیے یہ ہر عمر کے افراد اور فیملیز کے لیے نہایت موزوں ہے۔
قدرتی مناظر:اس راستے کے ایک طرف اونچے اور سرسبز پہاڑ جبکہ دوسری طرف گہری وادیاں ہیں۔ ٹریک کے دوران چیڑ، دیودار اور اوک (بلوط) کے قدیم درخت دیکھنے کو ملتے ہیں۔
موسمیاتی خصوصیات:موسمِ گرما میں یہاں ہر طرف ہریالی اور جنگلی پھول ہوتے ہیں، جبکہ موسمِ سرما میں برفباری کے بعد یہ راستہ سفید چادر اوڑھ ہے۔
ضروری ہدایات:
ٹریک پر جانے کے لئے مناسب چیزیں لازمی ساتھ رکھیں۔
مناسب جوتے:اگرچہ راستہ ہموار ہے، لیکن ہائیکنگ کے لیے آرام دہ جوتے (Joggers/Sneakers) ضرور پہنیں۔
پانی اور ہلکا ناشتہ:ٹریک کے دوران کھانے پینے کی کوئی دکان میسر نہیں، اس لیے اپنے ساتھ پانی کی بوتل، بسکٹ، پھل، کھجور، خشک خوبانی، خشک میوہ جات ضرور رکھیں۔
چھتری اور برساتی:پہاڑوں پر موسم کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ لہذا اپنے ساتھ چھتری / برساتی لازمی رکھیں۔
صفائی کا خیال:گلیات ایک خوبصورت قدرتی اثاثہ ہیں۔ براہ کرم کوڑا کرکٹ یہاں مت پھینکیں اور ٹریک کو صاف ستھرا رکھیں۔
The Burj Patriata Trek also known asthe Butterfly Track
برج پتریاٹہ ٹریک
برج پتریاٹہ ٹریک، بٹر فلائی ٹریک
کوٹلی ستیاں، مری کے گاؤں برج سے
پتریاٹہ ہل اسٹیشن،مری تک
8 کلومیٹر یک طرفہ ہائیکنگ ٹریک مکمل جیپ ٹریک ہے۔
اسلام آباد سے لہتراڑ روڈ (Lehtrar Road) کے ذریعے
گاڑی/بائیک پر برج گاؤں پہنچنے میں
تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگتے ہیں۔
برج پتریاٹہ ٹریک، مری کی تحصیل کوٹلی ستیاں کے گاؤں برج کے چھوٹے سے بازار برج سے
تقریباً ایک کلومیٹر آگے پھوفنڈی گاؤں سے شروع ہوتا ہے۔
پتریاٹہ ٹاپ، چئیرلفٹ پوائنٹ، نیومری پر
اختتام پذیر ہوتا ہے۔
چیڑ کے سر سبز و شاداب و گھنے درختوں سے مہکتے سر سبز و شاداب ٹریک کو خُوشنما و رنگین پھولوں، خُوشنما تتلیوں، کوئل کی کُوک، پرندوں کی چہچہاہٹ، قدرتی چشموں و دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے
بآسانی 2-3 گھنٹے میں ٹریک کیا جا سکتا۔
واپسی پر ڈھلوانی ٹریک کے سبب ٹریک بالکل آسان ہو جاتا۔
برج پتریاٹہ ٹریک بٹر فلائی ٹریککے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
کیونکہ تمام ٹریک پہ جابجا خوبصورت، دلکش، خُوشنما و رنگین تتلیاں آپ کے ساتھ محوِ سفر رہتیں۔
کوئل کی کُوک ٹریک کے ابتداء سے ٹریک کے اختتام تک آپ کے ساتھ مسلسل محوِ سفر رہتی ہے۔
جون، جولائی، اگست، ستمبر میں امبر کی آوارہ و شوخ ٹولیوں کے ساتھ آفتاب کی آنکھ مچولی سے دھوپ و خُنک چھاؤں کا خوبصورت امتزاج آپ کے ساتھ محوِ سفر رہتا ہے۔
Burj Patriata Trek
The Burj Patriata Trek also known asthe Butterfly Track
is a scenic, moderate 6 to 9 km hiking route in the Kotli Sattian/Murree region.
Starting from Burj village,
it winds through a dense, lush pine forest to the Patriata Top,
taking roughly 2 to 3 hours to complete.
Starting Point:Burj Bazar, near Kotli Sattian
(approx. 70 km / 2 hours drive from Islamabad)
Ending Point: Patriata Top / Chairlift Point (New Murree)
Distance:6 km to 8.5 km (one-way)
Elevation Gain:~440 m to 750 m
Difficulty:Moderate (well-defined, abandoned jeep track with an initial 30-minute incline)
Phofandi Top & Waterfall:Located roughly 30 minutes to an hour into the hike,
serving as an excellent resting spot.
Flora: As you ascend, the terrain transforms into a spectacular forest of Cedrus Deodara (the National Tree of Pakistan).
Scenic Views:On clear days, the ridge offers breathtaking views of the
Kashmir and Murree hills.
Best Time to Go: July to September,
when the hills are vibrantly lush green.
Camping: The midway points of the trek provide excellent grounds
if you want to break the trip into an overnight or weekend camp.
Essentials:Wear sturdy trail shoes,
carry at least 2 liters of water per person,
and bring layered clothing as mountain weather can be unpredictable.
Queen of Rasul Hiking TrekSituated within Foothills of Salt Rangein Chamkon Valley Scenic Area of Jalalpur Sharif, Pind Dadan Khan,Jhelum.
while Travelling on Jhelum, Pind Dadan Khan Roada Link Road leads toChamkon Valley near Jalalpur Sharif.
کوئین آف رسول
کسی رُومانوی لمحے میں جب گھر سے دُور ایک غیر ملکی انجنیئرنے پتھر کوٹھی رسول سے مغربی سمت دیکھا۔ تو اُسے دُور دریا کے اس پار پہاڑوں کی ایسی ساخت دکھائی دی جیسے ایک عورت خوابیدہ پڑی ہو۔ اس نے اسے کوئین آف رسول کا نام دے دیا اور پھر یہ نام امر ہو گیا۔۔۔!
Queen of Rasul Hiking Trek in Chamkon Valley is a Scenic beauty, hilly terrain, green landscapes, scenic area located near Jalalpur Sharif in Pind Dadan Khan tehsil Jhelum District of Punjab, Pakistan.
Situated in the foothills of the Salt Range,
providing a hilly,scenic landscape.
it is known for its natural landscapes.
The area is recognized as a local landmark for its beautiful terrain.