Search This Blog

Showing posts with label Nandana Fort Hiking. Show all posts
Showing posts with label Nandana Fort Hiking. Show all posts

Tuesday, November 3, 2026

Nandana Fort Hiking

Nandana Fort Hiking

Nandana Fort Trek

 Historical Nandana Fort

Nandana Fort Al-Biruni laboratory

Nandana Fort





قلعہ نندنا ہائیکنگ

پنڈ دادنخان، جہلم روڈ پر واقع دھریالہ جالپ کے قریب غریبوال سیمنٹ فیکٹری موڑ روڈ سے ہوتے ہوئے باغاں والا گاؤں کی جانب جانے والے راستہ سے ہوتے ہوئے ایک راستہ قلعہ نندنہ کی جانب جاتا ہے۔


کوہستانِ نمک کے دامن میں واقع آخری گاؤں باغاں والا کی جانب جانے والے راستے سے گزرتے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر واقع قدیم قلعہ نندنا تک پہنچنے کے لیے تقریباً 2.5 کلومیٹر کی پختہ ہائیکنگ ٹریل موجود ہے۔


موجودہ پختہ ہائیکنگ ٹریک سے ہٹ کر گزشتہ ہائیکنگ ٹریک جو کہ اس سے نسبتا مشکل ہے لیکن اس ٹریک کے راستے میں جابجا بہتے چشموں کی مدھر آواز محو سفر ہو کر ٹریک کو مزید خوبصورت و دلکش بناتے ہیں۔


🔯    مسلم سائنسدان ابو ریحان البیرونی نے اسی قلعے میں قیام کیا۔ 

🔘    یہیں اس نے ایک رصد گاہ / تجربہ گاہ بنائی اور ایک چھڑی اور ٹرگنومیٹری کی مدد سے زمین کا قطر ناپا۔

🔘    اس کا ناپا ہوا قطر 3928.77 میل تھا جو آج کے جدید قطر سے صرف 2% یا تقریباً 43 فٹ مختلف ہے۔

🔘    اس نے اپنی مشہور کتاب *"کتاب الہند"* کا زیادہ حصہ یہیں بیٹھ کر لکھا۔


🔯    مقام اور تعمیر:

🔘    دسویں صدی عیسوی میں تعمیر ہوا۔

🔘    ہندو شاہی کے راجہ جے پال نے یہ قلعہ بنوایا،

🔘    جبکہ اس کے اندر شیو جی کا مندر اس کے بیٹے آنند پال نے بنوایا تھا۔

🔘    سنسکرت میں "نندنہ" کا مطلب "بیٹا" ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا نام اندر دیوتا کے دیو مالائی باغ کے نام پر رکھا گیا۔


🔯    تاریخی ادوار:

🔘    گیارہویں صدی تک ہندو شاہی راجے حکومت کرتے رہے۔

🔘    سلطان محمود غزنوی نے 1014ء میں حملہ کر کے اسے فتح کیا اور یہاں ساروغ کو کوتوال مقرر کیا۔

🔘    اسی مقام پر بھیم پال اور محمود کی فوجوں میں جنگ ہوئی۔


🔯    بعد کے ادوار:

🔘    13ویں صدی میں یہ قمر الدین کرمانی کے قبضے میں آیا،

🔘    پھر جلال الدین خوارزمی کے جرنیل،

🔘    پھر چنگیز خان کے افسر ترتی کے قبضے میں گیا۔

🔘    بعد میں التمش نے اسے فتح کیا۔

🔘    اکبر اور جہانگیر کے دور میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اور یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا۔ 

🔘    سکندر اعظم کی فوجوں نے بھی دریائے جہلم پار کرنے کے لیے یہی راستہ استعمال کیا تھا۔


🔯    حکومت پاکستان نے 2021 میں اسے Heritage Trail کا حصہ بنا کر بحال کرنے کے لیے 126 ملین کا پروجیکٹ شروع کیا تھا،

🔘    جس میں کٹاس راج، کھیوڑہ کی کانیں، ملوٹ قلعہ بھی شامل ہیں۔



مکمل تفصیل Video Link کی مدد سے حاصل کر سکتے ہیں۔



Creation of 1629 Posts of Headmaster, Headmistress, Senior Headmaster, Senior Headmistress in Punjab

Creation of 1629 Posts of Headmaster, Headmistress, Senior Headmaster, Senior Headmistress on Lump-Sum Pay Package in Public Schools of the ...